380 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، وَزَادَ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد (حضرت ) سعد سے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کو (عطیہ) دیا اورمیں ان میں بیٹھا تھا آگے ابن شہاب کے بھتیجے کی اپنے چچا سے روایت کی طرح ہے اور اتنا اضافہ ہے: ''میں اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ سے عرض کی:فلاں سے آپ نے اعراض کیوں فرمایاا