3805 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: «نُهِيَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ الْمُلَامَسَةِ، وَالْمُنَابَذَةِ» ،"أَمَّا الْمُلَامَسَةُ: فَأَنْ يَلْمِسَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِغَيْرِ تَأَمُّلٍ، وَالْمُنَابَذَةُ: أَنْ يَنْبِذَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَهُ إِلَى الْآخَرِ، وَلَمْ يَنْظُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَى ثَوْبِ صَاحِبِهِ"
عمرو بن دینار نے عطاء بن میناء سے روایت کی کہ انہوں نے ان (عطاء) کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا: دو قسم کی بیعوں (یعنی) ملامسہ اور منابذہ سے منع کیا گیا ہے۔ ملامسہ یہ ہے کہ دونوں (بیچنے والے اور خریدنے والے) میں سے ہر ایک بغیر سوچے (اور غور کیے) اپنے ساتھی کے کپڑے کو چھوئے، اور منابذہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکے اور کسی نے بھی اپنے ساتھی کے کپڑے کو (جس کے ساتھ اس کے کپڑے کا تبادلہ ہو رہا ہے) نہ دیکھا ہو۔ (اور اسی سے بیع کی تکمیل ہو جائے