فهرس الكتاب

الصفحة 3952 من 7481

کتاب: لین دین کے مسائل

زمین کو غلہ کے عوض بٹائی پر دینا

3952 حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ، مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعٍ، أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ - وَهُوَ عَمُّهُ - قَالَ: أَتَانِي ظُهَيْرٌ، فَقَالَ: لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: وَمَا ذَاكَ؟ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ حَقٌّ، قَالَ: سَأَلَنِي: «كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟» فَقُلْتُ: نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللهِ عَلَى الرَّبِيعِ، أَوِ الْأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ أَوِ الشَّعِيرِ، قَالَ: «فَلَا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا، أَوْ أَزْرِعُوهَا، أَوْ أَمْسِكُوهَا

ابوعمرو اوزاعی نے مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابونجاشی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ظُہیر بن رافع ان کے چچا تھے، کہا: ظہیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمیں سہولت دینے والا تھا۔ میں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ برحق ہے۔ کہا: آپ نے مجھ سے پوچھا:"تم اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟"میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم انہیں چھوٹی نہر (کے کناروں کی پیداوار) پر یا کھجور یا جو کے (متعینہ) وسقوں پر اجرت پر دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا:"تو ایسا نہ کرو، اسے خود کاشت کرو یا کاشت کے لیے کسی کو دے دو یا ویسے ہی اپنے ہاتھ میں رکھو"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت