فهرس الكتاب

الصفحة 4044 من 7481

کتاب: سیرابی کے عوض پیدوار میں حصہ داری اور مزارعت

پچھنے لگانے کی اجرت کا جواز

4044 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ، فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ، وَكَلَّمَ سَيِّدَهُ فَخَفَّفَ عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ، وَلَوْ كَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

شعبی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بنو بیاضہ کے ایک غلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو پچھنے لگائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کی اجرت دی اور آپ نے اس کے مالک سے بات کی تو اس نے اس کے محصول میں کچھ تخفیف کر دی اور اگر یہ (اجرت) حرام ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نہ دیتے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت