فهرس الكتاب

الصفحة 413 من 7481

کتاب: ایمان کا بیان

رسو ل اللہﷺ کو رات کے وقت آسمانوں پر لے جانا اور نمازوں کی فرضیت

413 حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ: هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ لَأَمَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ - يَعْنِي ظِئْرَهُ - فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ"، قَالَ أَنَسٌ: «وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ» ."

(سلیمان بن مغیرہ کے بجائے ) حماد بن سلمہ نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس بن مالک﷜ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہﷺ کے پاس جبریل ﷤ آئے جبکہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ، انہوں نے آپ کو پکڑا ، نیچے لٹایا ، آپ کا سینہ چاک کیا اور دل نکال لیا ، پھر اس سےایک لوتھڑا نکالا اور کہا: یہ آپ ( کے دل میں ) سے شیطان کا حصہ تھا،پھر اس ( دل) کو سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کو جوڑا اور اس کی جگہ پر لوٹا دیا، بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ ، یعنی آپ کی رضاعی ماں کے پاس آئے اور کہا:محمد (ﷺ ) کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ ( یہ سن کر لوگ دوڑے) تو آپ کے سامنے سےآتے ہوئے پایا، آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا، حضرت انس ﷜ نے کہا: میں اس سلائی کا نشان آپ کے سینے پر دیکھا کرتا تھا۔ ( یہ بچپن کا شق صدر ہے ۔)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت