فهرس الكتاب

الصفحة 4178 من 7481

کتاب: عطیہ کی گئی چیزوں کا بیان

اولاد میں سے کسی کو تحفہ دینے میں فوقیت دینا نا پسندیدہ ہے

4178 وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: أَتَى بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ؟» قَالَ: لَا، قَالَ: «فَارْدُدْهُ»

ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفے میں دیا ہے۔ تو آپ نے پوچھا:"کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو (ایسا) تحفہ دیا ہے؟"انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا:"اسے واپس لو"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت