فهرس الكتاب

الصفحة 4248 من 7481

کتاب: نذر(منت ماننے )کے احکام و مسائل

جس نے کعبہ کی طرف پیدل چلنے کی نذر مانی

4248 وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ، يَتَوَكَّأُ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا شَأْنُ هَذَا؟» قَالَ ابْنَاهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ، فَإِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنْكَ، وَعَنْ نَذْرِكَ» ، وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، وَابْنِ حُجْرٍ،

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن جعفر نے عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمان اعرج سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بوڑھے آدمی کو ملے جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان، ان کا سہارا لیے چل رہا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:"اس کا معاملہ کیا ہے؟"اس کے دونوں بیٹوں نے کہا: اللہ کے رسول! اس کے ذمے نذر تھی۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اے بزرگ! سوار ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ تم سے اور تمہاری نذر سے بے نیاز ہے (اسے اس کی ضرورت نہیں۔) ۔۔ الفاظ قتیبہ اور ابن حجر کے ہیں"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت