جس نے (کسی کام کی ) قسم کھائی 'پھر کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے
4266 وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، وَالْقَاسِمِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ هَذَا الْحَيِّ مِنْ جَرْمٍ وَبَيْنَ الْأَشْعَرِيِّينَ وُدٌّ وَإِخَاءٌ، فَكُنَّا عِنْدَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَقُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامٌ فِيهِ لَحْمُ دَجَاجٍ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ،
عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی، انہوں نے کہا: جَرم کے قبیلے اور اشعریوں کے درمیان محبت و اخوت کا رشتہ تھا، ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہیں کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا ۔۔ آگے اسی کے ہم معنی بیان کیا