جس نے (کسی کام کی ) قسم کھائی 'پھر کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے
4275 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، قَالَ: جَاءَ سَائِلٌ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، فَسَأَلَهُ نَفَقَةً فِي ثَمَنِ خَادِمٍ - أَوْ فِي بَعْضِ ثَمَنِ خَادِمٍ - فَقَالَ: لَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ إِلَّا دِرْعِي، وَمِغْفَرِي، فَأَكْتُبُ إِلَى أَهْلِي أَنْ يُعْطُوكَهَا، قَالَ: فَلَمْ يَرْضَ، فَغَضِبَ عَدِيٌّ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَا أُعْطِيكَ شَيْئًا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ رَضِيَ، فَقَالَ: أَمَا وَاللهِ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ رَأَى أَتْقَى لِلَّهِ مِنْهَا، فَلْيَأْتِ التَّقْوَى» مَا حَنَّثْتُ يَمِينِي
جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سائل آیا اور ان سے غلام کی قیمت یا غلام کی قیمت کا کچھ حصہ (ادا کرنے کے لیے) خرچے کا سوال کیا، تو انہوں نے کہا، میرے پاس تو تمہیں دینے کے لیے میری زرہ اور (سر کے) خَود کے سوا کچھ نہیں، اس لیے میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں کہ وہ یہ خرچہ تمہیں دے دیں۔ کہا: وہ (اس پر) راضی نہ ہوا تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا، پھر وہ آدمی (اسی بات پر) راضی ہو گیا تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا:"جس نے کوئی قسم کھائی، پھر کسی اور کام کو اللہ عزوجل کے تقوے کے زیادہ قریب دیکھا تو وہ تقوے والا کام کرے۔"تو میں اپنی قسم نہ توڑتا