فهرس الكتاب

الصفحة 4309 من 7481

کتاب: قسموں کا بیان

غلاموں کے ساتھ حسن معاشرت اور اس شخص کا کفارہ جس نے اپنے غلام کو طماچہ مارا

4309 وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، أَنَّهُ كَانَ يَضْرِبُ غُلَامَهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ: أَعُوذُ بِاللهِ، قَالَ: فَجَعَلَ يَضْرِبُهُ، فَقَالَ: أَعُوذُ بِرَسُولِ اللهِ، فَتَرَكَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَاللهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ» ، قَالَ: فَأَعْتَقَهُ

ابن ابی عدی نے شعبہ سے، انہوں نے سلیمان سے، انہوں نے ابراہیم تیمی سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے تو اس نے اعوذباللہ (میں تمہاری مار سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں) کہنا شروع کر دیا۔ کہا: تو (وہ اس کی بات کی طرف متوجہ نہ ہو پائے اور) اسے مارتے رہے۔ پھر اس نے کہا: میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں تو (انہیں اندازہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں) انہوں نے اسے چھوڑ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ کی قسم! اللہ تم پر اس سے زیادہ اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس پر رکھتے ہو۔"کہا: تو انہوں نے اسےآزاد کر دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت