کسی انسان کی جان یا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو 'جب وہ شخص جس پر حملہ کیا گیا ہےدور دھکیلے اور اس طرح اس کی جان یا کسی عضو کو ضائع کر دے تو اس
4368 حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ فَجَذَبَهُ، فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ، فَرُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَبْطَلَهُ، وَقَالَ: «أَرَدْتَ أَنْ تَأْكُلَ لَحْمَهُ؟
ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے زرارہ بن اوفیٰ سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے دوسرے کی کلائی کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اسے کھینچا تو اس (کاٹنے والے) کا سامنے والا دانت گر گیا، یہ مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس (نقصان) کو رائیگاں قرار دیا اور فرمایا:"کیا تم اس کا گوشت کھانا چاہتے تھے"