کسی انسان کی جان یا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو 'جب وہ شخص جس پر حملہ کیا گیا ہےدور دھکیلے اور اس طرح اس کی جان یا کسی عضو کو ضائع کر دے تو اس
4372 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ - قَالَ: وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ: تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي - فَقَالَ عَطَاءٌ: قَالَ صَفْوَانُ، قَالَ يَعْلَى:"كَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ - قَالَ: لَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ - فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ"،
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے عطاء نے خبر دی، کہا: مجھے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے اپنے والد سے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ تبوک میں شرکت کی، کہا: اور حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: وہ غزوہ میرے نزدیک میرا سب سے قابلِ اعتماد عمل ہے۔ عطاء نے کہا: صفوان نے کہا: یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا ایک ملازم تھا، وہ کسی انسان سے لڑ پڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا ۔۔ کہا: مجھے صفوان نے بتایا تھا کہ ان میں سے کس نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تھا ۔۔ جس کا ہاتھ کاٹا جا رہا تھا اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانتوں میں سے ایک نکال دیا، اس پر وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے اس کے دانت (کے نقصان) کو رائیگاں قرار دیا