بلا ضرورت کثرت سے سوالات کرنے کرنے کیث ممانعت اور روکنا'لاؤ ''کی ممانعت ئاس سے مراد اپنے ذمے جو حق ہے اس کو ادا نہ کرنا اور جو اور جس چیز کا حق نہیں ہے اس کا مطالبہ کرنا ہے
4483 وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ وَرَّادٍ، مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَيْكُمْ: عُقُوقَ الْأُمَّهَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ، وَمَنْعًا وَهَاتِ، وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ"
جریر نے منصور سے، انہوں نے شعبی سے، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام وراد سے، انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا:"بلاشبہ اللہ عزوجل نے تم پر ماؤں کی نافرمانی، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے اور"روکنا، لاؤ" (دوسرے کے حقوق دبانے اور جو اپنا نہیں اسے حاصل کرنے) کو حرام کیا ہے اور تمہارے لیے قیل و قال، کثرتِ سوال اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے"