فهرس الكتاب

الصفحة 4505 من 7481

کتاب: کسی کو ملنے والی ایسی چیز جس کے مالک کا پتہ نہ ہو

کسی چیز کے) ڈھکنے (یا تھیلی) اور (اس کے) بندھن کی شناخت رکھنا اور گمشدہ بکری اور اونٹ کے بارے میں شریعت کا حکم

4505 وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: «فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا، وَإِلَّا، فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا، وَوِكَاءَهَا، وَعَدَدَهَا

ابوبکر حنفی نے ضحاک بن عثمان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا:"اگر اسے پہچان لیا جائے تو ادا کر دو ورنہ اس کی تھیلی، بندھن، (جس) برتن (میں بند تھی) اور تعداد کی پہچان (محفوظ) رکھو"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت