458 وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، ح، وَحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ كِلَاهُمَا عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالَ لَهُ: الْحَيَاةُ، وَلَمْ يَشُكَّا، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ: «كَمَا تَنْبُتُ الْغُثَاءَةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ» ، وَفِي حَدِيثِ وُهَيْبٍ: «كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِئَةٍ - أَوْ حَمِيلَةِ السَّيْلِ»
وہیب اور خالد دونوں نے عمرو بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ۔ اس میں ہے:''انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا جسے الحیاۃ کہا جاتا ہے ۔'' اور دونوں نے ( پچھلی روایت کی طرح اس لفظ میں ) کوئی شک نہیں کیا ۔
خالد کی روایت میں (گآ) یہ ہے:'' جس طرح کوڑا کرکٹ (سیلاب میں بہ کر آنے والے مختلف قسم کے بیج) سیلاب کے کنارے اگتے ہیں ۔''اور وہیب کی روایت میں ہے:''جس طرح چھوٹا سا بیج سیاہ گارے میں یا سیلاب کے خس و خاشاک میں اگتا ہے ۔''