4634 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، يَقُولُ بِصِفِّينَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ، وَاللهِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ، وَلَوْ أَنِّي أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَرَدَدْتُهُ، وَاللهِ، مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ قَطُّ، إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ إِلَّا أَمْرَكُمْ هَذَا» ، لَمْ يَذْكُرِ ابْنُ نُمَيْرٍ إِلَى أَمْرٍ قَطُّ
ابوکریب محمد بن علاء اور محمد بن عبداللہ بن نمیر دونوں نے کہا: ہمیں ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے شقیق (بن سلمہ ابو وائل) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے صفین میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: لوگو! اپنی رائے پر (غلط ہونے کا) الزام لگاؤ۔ اللہ کی قسم! میں نے ابوجندل (کے واقعے) کے دن اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (صلح کے) معاملے کو رد کر سکتا تو رد کر دیتا۔ اللہ کی قسم! ہم نے کبھی کسی کام کے لیے اپنے کندھوں پر تلواریں نہیں رکھیں تھیں مگر ان تلواروں نے ہمارے لیے ایسے معاملے تک پہنچنے میں آسانی کر دی جس کو ہم جانتے تھے، سوائے تمہارے موجودہ معاملے کے۔ابن نمیر نے"کبھی کسی معاملے کے لیے"کے الفاظ بیان نہیں کیے