فهرس الكتاب

الصفحة 4636 من 7481

کتاب: جہاد اور اس کے دوران میں رسول اللہﷺ کے اختیار کردہ طریقے

صلح حدیبیہ

4636 وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ بِصِفِّينَ، يَقُولُ: «اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَتَحْنَا مِنْهُ فِي خُصْمٍ، إِلَّا انْفَجَرَ عَلَيْنَا مِنْهُ خُصْمٌ

ابوحصین نے ابووائل سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے صفین میں سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: اپنے دین کے مقابلے میں اپنی رائے پر الزام دھرو۔ ابوجندل (کے واقعے) کے دن میں نے خود کو اس حالت میں دیکھا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو رد کر سکتا (تو حاشا و کلا رد کر دیتا۔) لیکن یہ معاملہ ایسا ہے کہ ہم اس کے ایک کونے کو مضبوط نہیں کر پاتے کہ ہمارے سامنے اس کا دوسرا کونا کھل جاتا ہے۔ (کیونکہ یہ مسلمانوں کا آپس میں اختلاف ہے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت