4643 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، وَهُوَ يَسْأَلُ عَنْ جُرْحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَ وَاللهِ، إِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ جُرْحَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ كَانَ يَسْكُبُ الْمَاءَ، وَبِمَاذَا دُووِيَ جُرْحُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ: وَجُرِحَ وَجْهُهُ، وَقَالَ مَكَانَ هُشِمَتْ: كُسِرَتْ
یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ابوحازم سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم کے متعلق سوال کیا جا رہا تھا، انہوں نے کہا: سنو! اللہ کی قسم! مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم کون دھو رہا تھا اور پانی کون ڈال رہا تھا اور آپ کے زخم پر کون سی دوائی لگائی گئی، پھر عبدالعزیز کی حدیث کی طرح بیان کیا، مگر انہوں نے یہ اضافہ کیا: اور آپ کا چہرہ انور زخمی ہو گیا اور ۔۔ (خود) ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔۔ کی جگہ"ٹوٹ گیا"کہا