فتح مکہ کے بعد اسلام 'جہاد اور خیر پربیعتاور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ ہونے کا مفہوم
4831 وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: «لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ، وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا»
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے متعلق سوال کیا گیا، آپ نے فرمایا:"فتح (مکہ) کے بعد ہجرت نہیں ہے، لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تم کو جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکلو۔"