فتح مکہ کے بعد اسلام 'جہاد اور خیر پربیعتاور فتح مکہ کے بعد ہجرت نہ ہونے کا مفہوم
4833 وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ اللهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا» ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: «فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟» قَالَ: نَعَمْ
محمد بن یوسف نے اوزاعی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی مگر انہوں نے کہا:"بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کرے گا"اور یہ اضافہ کیا، آپ نے فرمایا:"جس دن اونٹنیاں پانی پینے کے لیے (گھاٹ یا چشمے پر) آتی ہیں تو کیا تم (ضرورت مندوں، مسکینوں، مسافروں کو پلانے کے لیے) ان کا دودھ دوہتے ہو؟"اس نے کہا: ہاں۔