فهرس الكتاب

الصفحة 4922 من 7481

کتاب: امور حکومت کا بیان

جو شخص اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرے وہی مجاہد(فی سبیل اللہ)ہے

4922 وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْقِتَالِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يُقَاتِلُ غَضَبًا، وَيُقَاتِلُ حَمِيَّةً، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ، وَمَا رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَيْهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ قَائِمًا، فَقَالَ: «مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ»

منصور نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کے متعلق سوال کیا اور کہا: ایک شخص غصے کی وجہ سے جنگ کرتا ہے، ایک شخص (قومی) حمیت کی بنا پر جنگ کرتا ہے۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف اپنا سر مبارک اٹھایا اور صرف اس لیے اٹھایا کہ وہ آدمی کھڑا ہوا تھا اور فرمایا:"جو شخص اس لیے لڑا کہ اللہ کا کلمہ سب سے اونچا ہو، وہی اللہ کی راہ میں (لڑنے والا) ہے۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت