فهرس الكتاب

الصفحة 4977 من 7481

کتاب: شکار کرنے،ذبح کیےجانے والے اور ان جانوروں کا بیان جن کا گوشت کھایا جاسکتا ہے

باب: سدھائے ہوئے کتوں اور تیر اندازی کےذریعے سے شکار کرنے کاحکم

4977 وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ، فَقَالَ: «مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْهُ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ» ، وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ، فَقَالَ: «مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ فَكُلْهُ، فَإِنَّ ذَكَاتَهُ أَخْذُهُ، فَإِنْ وَجَدْتَ عِنْدَهُ كَلْبًا آخَرَ، فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ، فَلَا تَأْكُلْ، إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللهِ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ

۔ عبداللہ بن نمیر نے کہا:ہمیں زکریا نے عامر (شعبی) سے حدیث بیان کی،انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لاٹھی کی لوہے والی طرف لگے تو کھا لے اور جب لکڑی والی طرف لگے اور مر جائے، تو وہ وقیذ ہے (یعنی موقوذہ ہے جو پتھر یا لکڑی سے مارا جائے اور وہ قرآن پاک میں حرام ہے) اس کو مت کھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنا کتا چھوڑے، تو کھا لے لیکن اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو مت کھا کیونکہ اس نے اپنے لئے شکار کیا۔ میں نے کہا کہ اگر میں اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کس کتے نے پکڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو مت کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ کہی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت