فهرس الكتاب

الصفحة 5105 من 7481

کتاب: قربانی کے احکام ومسائل

ابتدا ئے اسلام میں تین دن کے بعد قربانی کا گو شت کھانے کی ممانعت تھی پھر اسے منسوخ کر کے جب تک چا ہے اس کو کھا نا جا ئز کر دیا گیا

5105 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ كِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ بُدْنِنَا فَوْقَ ثَلَاثِ مِنًى فَأَرْخَصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا قُلْتُ لِعَطَاءٍ قَالَ جَابِرٌ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ نَعَمْ

۔ ابن جریج نے کہا: ہمیں عطاء نے حدیث بیان کی ،انھوں نے کہا:میں نے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: (پہلے) ہم منیٰ کے تین دنوں سے زیادہ اپنے اونٹوں کی قربانیوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اجازت دے دی اور فرمایا:"کھاؤ اور ساتھ لے جاؤ۔ (اور صدقہ کرو جس طرح دوسری احادیث میں ہے۔) "

میں نے عطاء سے کہا:حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے؟ (مدینہ تک پہنچنے کے آٹھ دنوں تک بطور زاد راہ استعمال کرتے رہے؟) انھوں نے کہا:ہاں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت