فهرس الكتاب

الصفحة 5240 من 7481

کتاب: مشروبات کا بیان

دودھ پینے کا جواز

5240 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَاءَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاكَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ

یونس نے زہری سے روایت کی،کہا:ابن مسیب نے کہا:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت کی (یعنی اسلام کی اور استقامت کی) ۔ اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت