فهرس الكتاب

الصفحة 56 من 7481

مقدمہ صحیح مسلم

۔ اسناد دین میں سے ہے،(حدیث کی)روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔

56 وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: سَمِعْتُ زُهَيْرًا، يَقُولُ: قَالَ جَابِرٌ - أَوْ سَمِعْتُ جَابِرًا - يَقُولُ: «إِنَّ عِنْدِي لَخَمْسِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ، مَا حَدَّثْتُ مِنْهَا بِشَيْءٍ» ، قَالَ: ثُمَّ حَدَّثَ يَوْمًا بِحَدِيثٍ، فَقَالَ: «هَذَا مِنَ الْخَمْسِينَ أَلْفًا»

۔ زہیر کہتے ہیں: جابر نے کہا یا میں نے جابر (بن یزید) کو یہ کہتے سنا: بلاشبہ میرے پاس پچاس ہزار حدیثیں (ایسی ) ہیں جن میں سے میں نے کوئی حدیث بیان نہیں کی، پھر ایک دن اس نے ایک حدیث بیان کی اور کہا: یہ (ان) پچاس ہزار حدیثوں میں سے (ایک) ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت