5825 وحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ» قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ: «يَقْتُلُ كُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا» فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ، أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ»
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انھوں نے سالم سے،انھوں نے اپنے والد (حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے،انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی:"سانپوں کو قتل کردو اور (خصوصاً) دو سفید لکیروں والے اور دم بریدہ کو ، کیونکہ یہ حمل گرا دیتے ہیں اور بصارت زائل کردیتے ہیں۔"
(سالم نے) کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو بھی سانپ ملتا وہ اسے مار ڈالتے ،ایک بارابولبابہ بن عبدالمنذر یا زید بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ کا پیچھا کر رہے تھے تو انھوں نے کہا: لمبی مدت سے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو (فوری طور پر ) ماردینے سے منع کیا گیا ہے۔