فهرس الكتاب

الصفحة 5861 من 7481

کتاب: سلامتی اور صحت کابیان

جن جانوروں کو مارا نہیں جا تا ،انھیں کھلا نے اور پلا نے کی فضیلت

5861 وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا، فَاسْتَقَتْ لَهُ بِهِ، فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ، فَغُفِرَ لَهَا بِهِ»

ایوب سختیانی نے محمد بن سیرین سے،انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ،کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا:"ایک کتا ایک (گہرے،کچے) کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا اور پیاس کی شدت سے مرنے کے قریب تھا کہ بنی اسرا ئیل کی فاحشہ عورتوں میں سے ایک فاحشہ نے اس کو دیکھا تو اس نے اپنا موٹا موزاہ اتارا اور اس کے ذریعے سے اس (کتے ) کے لیے پانی نکا لا اور وہ پانی اسے پلا یا تو اس بنا پر اس کو بخش دیا گیا ۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت