شعر سننا سنانا،شعر میں کہی گئی عمدہ ترین بات ،اور (برے) شعر کی مذمت
5887 وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَزَادَ قَالَ: إِنْ كَادَ لِيُسْلِمُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ: «فَلَقَدْ كَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ»
معتمر بن سلیمان اور عبد الرحمٰن بن مہدی دونوں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن طائفی سے، انھوں نے عمروبن شریدسے، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شعر سنانے کے لیے فرما یا ،ابرا ہیم بن میسرہ کی روایت کے مانند اور مزید یوں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا"قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا ۔"اور ابن مہدی کی حدیث میں ہے:"وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہو نے کے قریب تھا۔" (اس نے تقریباً وہی باتیں کیں جو ایک مسلمان کہہ سکتا ہے۔)