فهرس الكتاب

الصفحة 60 من 7481

مقدمہ صحیح مسلم

۔ اسناد دین میں سے ہے،(حدیث کی)روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔

60 وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: «سَمِعْتُ جَابِرًا، يُحَدِّثُ بِنَحْوٍ مِنْ ثَلَاثِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ، مَا أَسْتَحِلُّ أَنْ أَذْكُرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا»

قَالَ مُسْلِمٌ: وَسَمِعْتُ أَبَا غَسَّانَ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرٍو الرَّازِيَّ، قَالَ: سَأَلْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ الْحَمِيدِ، فَقُلْتُ: الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ لَقِيتَهُ؟ قَالَ: «نَعَمْ، شَيْخٌ طَوِيلُ السُّكُوتِ، يُصِرُّ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ

عبد الرحمان بن مہدی نے حماد بن زید سے روایت کی، کہا: ایوب نے ایک دن ایک شخص کا ذکر کیا اور کہا: وہ کج زبان (جھوٹا ، تہمت تراش اور بد زبان) تھا اور دوسرے کا ذکر کیا تو کہا: وہ رقم (اشیاء پر لکھی ہوئی قیمت) میں اضافہ کر دیتا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت