فهرس الكتاب

الصفحة 6116 من 7481

کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے ایسے امور کے بارے میں بکثرت سوال کرنا جن کی ضرورت نہ ہو یا شریعت نے مکلف نہیں کیا اور پیش نہیں آئے اور اس طرح(کے بے مقصد سوالا ت )کو ترک کردینا

6116 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْظَمَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُحَرَّمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَحُرِّمَ عَلَيْهِمْ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ»

ابرا ہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انھوں نے عامر بن سعد سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا:"مسلمانوں کے حق میں مسلمانوں میں سے سب سے بڑا جرم وار وہ شخص ہے جو کسی ایسی چیز کے بارےمیں سوال کرے جو حرام نہیں کی گئی تو اس کے سوال کی بنا پر اسے حرا م کر دیا جائے۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت