فهرس الكتاب

الصفحة 6190 من 7481

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل

6190 حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ؟ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «الْعِلْمَ»

یو نس نے کہا: کہ ابن شہاب نے انھیں بتا یا ،انھوں نےحمزہ بن عبد اللہ بن عمربن خطاب سے روایت کی، انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:"میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیا لہ دیکھا جو میرے پاس لا یا گیا۔ اس میں دودھ تھا۔میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے ۔پھر اپنا بچا ہوا دودھ میں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دے دیا۔" (حاضرین نے) کہا: اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کی کیا تعبیر فر ما ئی ؟آپ نے فرما یا:"علم۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت