فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
64 وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى عَلَى قَتَادَةَ، فَلَمَّا قَامَ، قَالُوا: إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّهُ لَقِيَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ بَدْرِيًّا، فَقَالَ قَتَادَةُ: «هَذَا كَانَ سَائِلًا قَبْلَ الْجَارِفِ، لَا يَعْرِضُ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا، وَلَا يَتَكَلَّمُ فِيهِ، فَوَاللهِ مَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً، وَلَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ عَنْ بَدْرِيٍّ مُشَافَهَةً، إِلَّا عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ»
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ہمام نے خبر دی کہ ابو داود اعمیٰ قتادہ کے ہاں آیا، جب وہ کھڑا ہوا (اور چلا گیا) تو لوگوں نے کہا: اسے یہ زعم ہے کہ اس نے اٹھارہ بدری صحابہ سے ملاقات کی۔ اس پر قتادہ کہنے لگے: (طاعون کی) وبائے عام سے پہلے یہ ایک منگتا تھا، اس کا (علم حدیث) ایسی کسی چیز سے کوئی سروکار نہ تھا، وہ اس بارے میں بات تک نہ کرتا تھا۔ بخدا نہ حسن (بصری) نے (کبھی) کسی بدری سے بلاواسطہ حدیث ہمیں سنائی نہ سعید بن مسیب نے ایک سعد بن مالک کے سوا کسی اور بدری سے براہ راست سنی ہوئی کوئی حدیث سنائی