فهرس الكتاب

الصفحة 6615 من 7481

کتاب: حسن سلوک'صلہ رحمی اور ادب

نبی ﷺ نے کسی شخص پر لعنت کی ہو، برا کہا ہو یا اس کے خلاف بددعا کی ہو اور وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ اس کے لیے تزکیہ(برائی سے پاکیزگی)، اجر اور رحمت کا باعث بن جائے گی

6615 حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جَمِيعًا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ و قَالَ فِي حَدِيثِ عِيسَى فَخَلَوَا بِهِ فَسَبَّهُمَا وَلَعَنَهُمَا وَأَخْرَجَهُمَا

ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ جریر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی، اور عیسیٰ (بن یونس) کی حدیث میں کہا: وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں ملے تو آپ نے انہیں برا بھلا کہا، ان دونوں پر لعنت بھیجی اور ان کو نکال دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت