فهرس الكتاب

الصفحة 6629 من 7481

کتاب: حسن سلوک'صلہ رحمی اور ادب

نبی ﷺ نے کسی شخص پر لعنت کی ہو، برا کہا ہو یا اس کے خلاف بددعا کی ہو اور وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ اس کے لیے تزکیہ(برائی سے پاکیزگی)، اجر اور رحمت کا باعث بن جائے گی

6629 حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ كُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ

نضر بن شمیل نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوحمزہ نے خبر دی کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں آپ سے چھپ گیا۔ آگے اسی (سابقہ حدیث) کی طرح بیان کیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت