فهرس الكتاب

الصفحة 69 من 7481

مقدمہ صحیح مسلم

۔ اسناد دین میں سے ہے،(حدیث کی)روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔

69 وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ زَيْدٍ يَعْنِي حَمَّادًا، قَالَ: قِيلَ لِأَيُّوبَ: إِنَّ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ رَوَى عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: لَا يُجْلَدُ السَّكْرَانُ مِنَ النَّبِيذِ، فَقَالَ: كَذَبَ، أَنَا سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: «يُجْلَدُ السَّكْرَانُ مِنَ النَّبِيذِ»

سلیمان بن حرب نے کہا: ہم سے ابن زید، یعنی حماد نے بیان کیا، کہا:ایوب سے عرض کی گئی: عمرو بن عبید نے حضرت حسن بصری سے روایت بیان کی کہے (کہ انہوں نے) کہا: جسے نبیذ (شراب) سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے نہ مارے جائں۔ تو انہوں نے (ایوب سختیانی) نے کہا: اس نے جھوٹ بولا، میں نے (خود) حسن سے سنا، وہ کہتےتھے: جسے نبیذ سے نشہ ہو جائے اسے کوڑے مارے جائیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت