منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام
7041 حَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَلَمَّا كَانَ قُرْبَ الْمَدِينَةِ هَاجَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ تَكَادُ أَنْ تَدْفِنَ الرَّاكِبَ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُعِثَتْ هَذِهِ الرِّيحُ لِمَوْتِ مُنَافِقٍ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا مُنَافِقٌ عَظِيمٌ مِنْ الْمُنَافِقِينَ قَدْ مَاتَ
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے و اپس آئے،جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے قریب تھے تو اتنے زور کی آندھی چلی کہ قریب تھا وہ سوار کو بھی (ریت میں) دفن کردے گی۔تو وہ (جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) یقین سے کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:"یہ آندھی کسی منافق کی موت کے لئے بھیجی گئی ہے"جب آ پ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو منافقوں میں سے ایک بہت بڑا منافق مرچکا تھا۔