فهرس الكتاب

الصفحة 7099 من 7481

کتاب: منافقین کی صفات اور ان کے بارے میں احکام

لوگوں میں فتنہ ڈالنے کے لیے شیطان کا اپنے لشکروں کو اکسانا اور ان کو اس کام کے لیے بھیجنا،نیز ہر انسان کے ہمراہ ہمیشہ ایک ساتھ رہنے والا شیطان موجود رہتا ہے۔

7099 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَلَمَّا سَكَتُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ

ابوخلیل الضبعی نے مجاہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،کہا:ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے صحابہ سے فرمایا؛"مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مومن جیسی ہے۔"تو لوگ جنگلوں کے درختوں میں سے کوئی (نہ کوئی) درخت بتانے لگے۔

ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:اور میرے دل میں یا (کہا:) میرے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا د رخت ہے میں ارادہ کرنے لگا کہ بتادوں ،لیکن (وہاں) قوم کے معمر لوگ موجود تھے تو میں ان کی ہیبت سے متاثر ہوکر بولنے سے رک گیا۔جب وہ سب خاموش ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛"وہ کھجور کا درخت ہے۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت