فهرس الكتاب

الصفحة 728 من 7481

کتاب: حیض کا معنی و مفہوم

غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار ، مرد و عورت کا ایک برتن سے ایک( ہی )حالت میں غسل کرنا اور دونوں میں سےایک کادوسرے کے بچے ہوئے پانی سےنہانا

728 وَحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ العَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبةُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمنِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَا وَأَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ. فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ «فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ قَدْرِ الصَّاعِ فَاغْتَسَلَتْ وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا سِتْرٌ وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثلَاثًا» قَالَ: «وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذْنَ مِنْ رُءُوسِهِنَّ حَتَّى تَكُونَ كَالْوَفْرَةِ»

ابو بکر بن حفص نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن ( بن عوف جوحضرت عائشہ کے رضاعی بھانجے تھے) سےر وایت کی ، انہوں نے کہا:میں اور حضرت عائشہ ؓ کا رضاعی بھائی (عبد اللہ بن یزید) ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے ان سے نبی اکرمﷺ کے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا ،چنانچہ انہوں نے ایک صاع کے بقدربرتن منگوایا او راس سے غسل کیا ، ہمارے اور ان کے درمیان (دیوار وغیرہ کا) پردہ حائل تھا ، اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا۔ ابو سلمہ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات اپنے سر ( کے بالوں ) کو کاٹ لیتی تھیں یہاں تک کہ وہ وفرہ (کانوں کے نچلے حصے کی لمبائی کے بال ) کی طرح ہو جاتے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت