فهرس الكتاب

الصفحة 79 من 7481

مقدمہ صحیح مسلم

۔ اسناد دین میں سے ہے،(حدیث کی)روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔

79 وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، قَالَ: «سَمِعْتُ أَنَا وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ مِنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ نَحْوًا مِنْ أَلْفِ حَدِيثٍ» ، قَالَ عَلِيٌّ: فَلَقِيتُ حَمْزَةَ، فَأَخْبَرَنِي «أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ مَا سَمِعَ مِنْ أَبَانَ، فَمَا عَرَفَ مِنْهَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا خَمْسَةً أَوْ سِتَّةً»

علی بن مسہر نے بیان کیا، کہا: میں نے اور حمزہ زیات نے ابان بن ابی عیاش سے تقریبًا ایک ہزار احادیث سنیں۔

علی نے کہا: پھر (کچہ عرصے بعد) میں حمزہ سے ملا تو اس نے مجھے بتایا کہ ا سنے خواب میں رسول اللہﷺ کو دیکھا تو وہ احادیث جو ابان سے سنی تھیں آپ کی خدمت میں پیش کیں۔ آپ نے ان میں بہت معمولی حصے، پانچ یا چھ حدیثوں کے سوا کسی چیز کو نہ پہچانا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت