فهرس الكتاب

الصفحة 81 من 7481

مقدمہ صحیح مسلم

۔ اسناد دین میں سے ہے،(حدیث کی)روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔

81 وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ بَعْضَ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: «نِعْمَ الرَّجُلُ بَقِيَّةُ لَوْلَا أَنَّهُ كَانَ يُكَنِّي الْأَسَامِيَ، وَيُسَمِّي الْكُنَى، كَانَ دَهْرًا يُحَدِّثُنَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْوُحَاظِيِّ فَنَظَرْنَا فَإِذَا هُوَ عَبْدُ الْقُدُّوسِ»

اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا: میں نے عبد اللہ کے اصحاب (شاگردوں) میں سے ایک سے سنا ، کہا: ابن مبارک نے فرمایا: بقیہ اچھا آدمی ہے اگر یہ نہ ہوتا کہ وہ ناموں کو کنیتوں سے بدل دیتا ہے اور کنیتوں کو ناموں سے۔ وہ ایک زمانے تک ہمیں ابو سعید وحاظی سے روایتیں سناتا رہا، ہم نے اچھی طرح غور کیا تو وہ عبد القدوس نکلا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت