فهرس الكتاب

الصفحة 839 من 7481

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

اذان دہری اور تکبیر اکہری کہنے کا حکم

839 وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: ذَكَرُوا أَنْ يُعْلِمُوا وَقْتَ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ يَعْرِفُونَهُ فَذَكَرُوا أَنْ يُنَوِّرُوا نَارًا، أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا «فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَيُوتِرَ الْإِقَامَةَ

عبد الوہاب ثقفی نے خالد حذاء سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ انہوں نے (صحابہ) نے (اس پر) بات کی کہ کسی ایسی چیز کے ذریعے سے نماز کے وقت کی علامت مقرر کریں جس کو لوگ پہچان لیا کریں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آگ روشن کریں یا ناقوس (گھنٹی) بجائیں، پھر (آخر کار) بلال﷜ کو حکم دیا گیا کہ وہ دہری اذان اور اکہری اقامت کہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت