فهرس الكتاب

الصفحة 87 من 7481

مقدمہ صحیح مسلم

۔ اسناد دین میں سے ہے،(حدیث کی)روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔

87 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُهْزَاذَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ، يَقُولُ: «لَوْ خُيِّرْتُ بَيْنَ أَنْ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، وَبَيْنَ أَنْ أَلْقَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَرَّرٍ لَاخْتَرْتُ أَنْ أَلْقَاهُ، ثُمَّ أَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ كَانَتْ بَعْرَةٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ

ابو اسحاق طالقانی کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن مبارک سے سنا، کہہ رہے تھے: (ایک وقت تھا) اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہوں یا عبد اللہ بن محرر سے ملوں تو میں اس کا انتخاب کرتا کہ پہلے میں اس سے مل لوں پھر جنت میں جاؤں گا، پھر جب میں نے اسے دیکھ لیا تو اس کے مقابلے میں ایک مینگنی بھی مجھے زیادہ محبوب تھی۔

طالقانی کہتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن مبارک سے سنا، کہہ رہے تھے: (ایک وقت تھا) اگر مجھے اختیار دیا جاتا کہ جنت میں داخل ہوں یا عبد اللہ بن محرر سے ملوں تو میں اس کا انتخاب کرتا کہ پہلے میں اس سے مل لوں پھر جنت میں جاؤں گا، پھر جب میں نے اسے دیکھ لیا تو اس کے مقابلے میں ایک مینگنی بھی مجھے زیادہ محبوب تھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت