فهرس الكتاب

الصفحة 91 من 7481

مقدمہ صحیح مسلم

۔ اسناد دین میں سے ہے،(حدیث کی)روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔

91 وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، ذُكِرَ عِنْدَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيُّ فَضَعَّفَهُ جِدًّا، فَقِيلَ لِيَحْيَى: أَضْعَفُ مِنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ؟ قَالَ: «نَعَمْ» ، ثُمَّ قَالَ: «مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَرْوِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ

۔ مجھ سے عبد الرحمان بن بشر عبدی نے بیان کیا، کہا: میں نے یحییٰ بن سعیدقطان سے سنا، جب ان کے سامنے محمد بن عبد اللہ بن عبید بن عمیر لیثی کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے اسے انتہائی ضعیف قرار دیا۔ (امام) یحییٰ سے کہا گیا: ہاں۔ پھر کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایک انسان بھی محمد بن عبد اللہ بن عبید بن عمیر سے روایت کر سکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت