فهرس الكتاب
- 📄
- 📄
948 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: «مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ» فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ مَتَى يَقُمْ مَقَامَكَ لَا يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، فَقَالَ: «مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ» قَالَ: فَصَلَّى بِهِمْ أَبُو بَكْرٍ حَيَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ بیمار ہو گئے اور آپ کی بیماری نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا: '' ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔'' اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: وہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو نماز نہ پڑھا سکیں گے۔ آپ نے فرمایا: '' (اے عائشہ!) ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تم تو یوسف کے ساتھ (معاملہ کرنے) والیوں کی طرح ہو۔''
انہوں (ابو موسیٰ) نے کہا: اس طرح ابو بکر رسول اللہﷺ کی زندگی میں لوگوں کو نماز پڑھانے لگے۔