اسلام ، احسان کی وضاحت ، تقدیر الہٰی کے اثبات پر ایمان واجب ہے ، تقدیر پر ایمان نہ لانےوالے سے براءت کی دلیل اور اس کے بارے میں سخت موقف
95 وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَا: لَقِينَا عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَذَكَرْنَا الْقَدَرَ، وَمَا يَقُولُونَ فِيهِ، فَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ كَنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِيهِ شَيْءٌ مِنْ زِيَادَةٍ وَقَدْ نَقَصَ مِنْهُ شَيْئًا.
(عبد اللہ بن بریدہ کے ایک تیسرے شاگرد) عثمان بن غیاث نے یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبد الرحمٰن دونوں سے روایت کی ، دونوں نےکہا: ہم عبد اللہ بن عمر سے ملے اور ہم سے تقدیر کی بات کی اور وہ لوگ ( منکرین تقدیر) جو کچھ کہتے ہیں ، اس کا ذکر کیا ۔ اس کے بعد ( عثمان بن غیاث نے ) سابقہ راویوں کے مطابق حضرت عمر سے مرفوعًا روایت کی ۔ اس روایت میں کچھ الفاظ زیادہ ہیں اور کچھ انہوں نے کم کیے ہیں ۔