فهرس الكتاب

الصفحة 989 من 7481

کتاب: نماز کے احکام ومسائل

اگر فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو خواتین مساجد میں جا سکتی ہیں لیکن وہ خوشبو لگا کر نہ نکلیں

989 حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَمْنَعُوا نِسَاءَكُمُ الْمَسَاجِدَ إِذَا اسْتَأْذَنَّكُمْ إِلَيْهَا» قَالَ: فَقَالَ بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ، قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ: فَسَبَّهُ سَبًّا سَيِّئًا مَا سَمِعْتُهُ سَبَّهُ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ:"أُخْبِرُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ: وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ"

یونس نے ابن شہاب (زہری) سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: '' اپنی عورتوں کو جب وہ تم سے مسجدوں میں جانے کی اجازت طلب کریں تو انہیں (وہاں جانے سے) نہ روکو۔''

(سالم نے) کہا: تو (ابن عمر کے دوسرے بیٹے) بلال بن عبد اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو ان کو ضرور روکیں گے۔ اس پرحضرت عبد اللہ ﷜ نے اس کی طرف رخ کیا اور اس کو سخت برا بھلا کہا، میں نے انہیں کبھی (کسی کو) اتنا برا بھلا کہتے نہیں سنا اور کہا: میں تمہیں رسول اللہﷺ کا فرمان بتا رہا ہوں اور تم کہتے ہو: اللہ کی قسم! ہم انہیں ضرور روکیں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت