فهرس الكتاب

الصفحة 113 من 267

۴: امام بغوی نے قلم بند کیا ہے:

''اَلْبَاقِيْ الدَّائِمُ عَلَی الْأَبَدِ۔'' [1]

''وہ ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں۔''

۵: امام ابن قیم لکھتے ہیں:

''وَلَہُ الْحَیَاۃُ کَمَالُھَا فَلِأَجْلِ ذَا

ما لِلْمَمَاِت عَلَیْہِ مِنْ سُلْطَانِ'' [2]

[اُن ہی کے لیے [زندگی] اپنی انتہائی شکل میں ہے، اسی لیے ان پر موت کا بالکل غلبہ نہیں]۔

۶: حافظ ابن کثیر نے تحریر کیا ہے:

''اَلْحيُّ فِيْ نَفْسِہٖ الَّذِيْ لَا یَمُوْتُ أَ بَدًا۔'' [3]

''وہ فی نفسہٖ زندہ ہیں، جو کبھی بھی فوت نہیں ہوں گے۔''

۷: قاضی ابوسعود نے لکھا ہے:

''اَلْبَاقِيْ الَّذِيْ لَا سَبِیْلَ عَلَیْہِ لِلْمَوْتِ وَالْفَنَآئِ۔'' [4]

''باقی رہنے والے، کہ ان پر موت و فنا نہیں۔''

ب: وصفِ الٰہی[اَلْحَيُّ]والی دیگر آیات میں سے چار:

۱: {الٓمَّٓ۔ اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ} [5]

[2] القصیدۃ النونیۃ، رقم البیت ۵۳۸، ۱/ ۳۳۹۔

[3] تفسیر ابن کثیر ۱/۳۳۰۔

[4] تفسیر أبي السعود ۱/۲۴۷۔ نیز ملاحظہ ہو: فتح القدیر ۱/۴۱۰؛ وتفسیر القاسمي ۳/۳۱۸؛ وأیسر التفاسیر ۱/۲۰۲۔

[5] سورۃ آل عمران / الآیتان ۱۔۲۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت