۲: شیخ سعدی نے قلم بند کیا ہے:
'' وَفِيْ ہٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّ أَشْرَفَ الْأُمُوْرِ عِلْمُ التَّوْحِیْدِ، لِأَنَّ اللّٰہَ شَہِدَ بِہٖ بِنَفْسِہٖ ، وَ أَشْہَدَ عَلَیْْہِ خَوَاصَّ خَلْقِہٖ۔'' [1]
[''اور اس میں اس بات کی دلیل ہے ، کہ بلاشبہ سب باتوں میں سے سب سے شرف و بزرگی والی بات [ علمِ توحید] ہے ، کیونکہ اس کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے دی ہے او ر اپنی مخلوق میں سے اپنے خواص کو اس پر گواہ ٹھہرایا۔'']
تنبیہ:
اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آیتِ کریمہ میں {لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ} کے جملے کو دو دفعہ ذکر فرمایا ہے۔ قاضی ابو سعود اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
'' تَکْرِیْرٌ لِّلتَّأْکِیْدِ وَمَزِیْدُ الْاِعْتِنَآئِ بِمَعْرِفَۃِ أَدِلَّۃِ التَّوْحِیْدِ۔'' [2]
['' تاکید اور دلائلِ توحید جاننے کے لیے مزید توجہ مبذول کروانے کی خاطر (اسے) دوبارہ ذکر کیا گیا ہے۔'']
[2] تفسیر أبي السعود ۲؍۱۷۔