فهرس الكتاب

الصفحة 146 من 267

{لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ}

کی تفسیر

ا: جملے کا معنیٰ

ب: خبر [لَہُ] کے تقدیم کی حکمت

ج: اسم موصول [مَا] اور اس کے تکرار کی فائدہ

د: اسی معنٰی پر دلالت کرنے والی دیگر نو آیات شریفہ

ہ: جملے کا ماقبل سے تعلق

و: جملے کے فوائد

ز: جملے کے متعلق تین سوالات کے جوابات

ا: جملے کا معنٰی

فرشتے، سورج، چاند، ستارے اور آسمان میں موجود دیگر ہر چیز اور زمین میں موجود ہر چیز، اپنی تخلیق، ملکیت، بندگی، تدبیر اور انتظام و انصرام کے اعتبار سے بلاشرکت غیر تنہا اللہ جل و جلالہ کی ہے۔

چھ مفسرین کے اقوال:

۱: امام طبری رقم طراز ہیں:

''یَعْنِيْ تَعَالٰی ذِکْرُہُ بِقَوْلِہٖ: {لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ} أَنَّہٗ مَالِکُ جَمِیْعِ ذٰلِکَ بِغَیْرِ شَرِیْکٍ وَّلَا نَدِیْدٍ،

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت