فهرس الكتاب

الصفحة 83 من 267

وہ دائمی طور پر دوزخ میں نہیں رہے گا۔ [1]

م: [لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] [2] کی گواہی دینے والے پر

دوزخ کی آگ کا حرام ہونا

دو دلیلیں:

ا: امام بخاری نے حضرت محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ، (کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

''فَإِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ عَلَی النَّارِ مَنْ قَالَ:

[لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] ۔

یَبْتَغِيْ بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ۔'' [3]

[پس بے شک اللہ تعالیٰ نے (دوزخ کی) آگ پر اس شخص کو حرام کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کرتے ہوئے کہے:

[لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] ۔

[اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں] ۔

[2] [لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] : علامہ ابن منیِّر لکھتے ہیں: شہادتین (یعنی [أَشْہَدُ أَنْ لَّآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] اور [أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا ۔ صلي الله عليه وسلم ۔ رَّسُوْلُ اللّٰہِ] ۔دونوں کے بولنے کو [لَآ إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ ] کہنے سے تعبیر کرتے ہیں۔(ملاحظہ ہو: عون المعبود ۸؍۲۶۷۔۲۶۸) ۔

[3] صحیح البخاري ، کتاب الصلاۃ، باب المساجد في البیوت… ، جزء من رقم الحدیث ۴۲۵، ۱؍۵۱۹۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت